تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm مراسلات: 3902 مكانیت: سرگودھا
|
|
ایرانی، رومی اور یہودی اسلامی فتوحات سے بہت سیخ پا تھے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کی شہادت کے پیچھے انہی کا ہاتھ تھا۔ انکا خیال تھا کہ آپؓ کے بعد فتوحات کا سلسلہ رک جائےگا مگر سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے ابتدائی چھ برسوں کے دوران یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ ان سازشیوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ پہلے سیدنا عثمانؓ کے گورنروں اور آپؓ کےخلاف مہم چلا دی‘ پھر بزرگ خلیفہ کو انکے مکان کے چالیس دن کے محاصرہ کے بعد عین اس وقت شہید کیا گیا، جب آپ قرآن پاک کی تلاوت کررہے تھے۔ یہ لوگ علی المرتضٰی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کےلئے کہا مگر دل سے یہ لوگ آپ سے بھی مخلص نہ تھے۔ انکا پہلا مقصد اپنے آپکو سیدنا عثمانؓ کے قصاص سے بچانا اور دوسراملت اسلامیہ کو خانہ جنگی میں مبتلا کرنا تھا اور یہ لوگ اپنی سازش میں کامیاب رہے۔ اس وقت بہت سے مخلص اورپاکباز صحابہ کرام موجود تھے، مگر ان سازشیوں نے انہیں بے بس کر دیا۔ جنگ جمل کے فریقین میں صلح کی شرائط طے ہوگئیں، کیونکہ فریقین قصاص عثمانؓ پرمتفق تھے۔ دونوں گروہ آپس کی خونریزی کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ سیدنا علیؓ قاتلین عثمانؓ کے گروہ کو اپنے لشکر سے الگ کردیں۔ چنانچہ آپؓ نے انہیں چلے جانے کا حکم دےدیا‘ مگر وہ لوگ تھوڑے فاصلہ پر جا کر رک گئے۔ بہانہ یہ بنایا کہ وہ آپؓ کی حفاظت کےلئے قریب ہی رہنا چاہتے ہیں‘ رات کو انہی لوگوں نے دونوں طرف سے تیر چلا کے شور مچا دیا کہ فریق ثانی کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے‘ اس طرح جنگ شروع کرا دی۔ جنگ صفین میں عین اس وقت جب سیدنا علیؓ کا ایک کمانڈر فتح کے قریب تھا، انہی لوگوں نے جناب امیرؓ کو مجبور کیا کہ وہ اسے واپس بلا لیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت علیؓ کی حکومت مضبوط ہو کیونکہ اس صورت میں ان سے قصاص لئے جانے کا امکان بڑھ جاتا تھا۔ دوسرے، ان کا مقصد دنیائے اسلام کو انتشار میں مبتلا رکھنا تھا تاکہ افواج اسلام کی دوسرے ممالک میں پیشقدمی رکی رہے۔ پہلے سیدنا علیؓ المرتضٰی کو سیاسی معاملہ دو ججوں کے سپرد کرنے پر مجبور کیا، پھر ایک فریق اسی بنا پر آپکے خلاف ہوگیا کہ آپ نے تحکیم کیوں قبول کی۔ سیدنا حسنؓ ابن علیؓ انکی سازش اور طریق واردات کو بھانپ گئے۔ انہوں نے انکے طعنوں کی پروا نہ کرتے ہوئے، صرف ملت اسلامیہ کے اتحاد اور مفاد کی خاطر امیر معاویہؓ سے صلح کرلی۔ انکے اس جرات مندانہ اقدام سے خانہ جنگی کے بادل چھٹ گئے اور اسلامی عساکر ایک بارپھر غیر اسلامی ممالک میں دلیرانہ آگے بڑھنے لگے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسنؓ کے بارے میں فرمایا تھا۔ میرا یہ بیٹا سردار ہے اسکی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہ متحد ہو جائیں گے‘ چنانچہ یہی ہوا۔
_________________ ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا
|
|