حملوں کی حمایتپاکستان کے قبائلی علاقوں میں کرائے گئے ایک سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں (ڈرون) کے ذریعے میزائل داغے جاتے ہیں وہاں رہنے والے عام افراد کی ایک بڑی تعداد ان حملوں کی حمایت کرتی ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم آریانہ انسٹیٹوٹ آف ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی نے یہ سروے نومبر دو ہزار آٹھ سے لے کر جنوری دو ہزار نو کے دوران کیا۔ اس سروے میں پہلا سوال یہ تھا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر ہوتے ہیں؟‘ اسّی فیصد لوگوں نے کہا کہ یہ حملے اپنے ہدف پر ہی ہوتے ہیں جبکہ بیس فیصد لوگوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے اور عام آبادی کو بھی نقصان ہوتا ہے۔ دوسرا اہم سوال اِس سروے میں یہ تھا کہ ’کیا آپ یہ چاہیں گے کہ جو لوگ دوسرے ممالک سے یہاں آئے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، اُن کے لیے کوئی ایسا طریقۂ کار اختیار کیا جائے کہ اُن کے مراکز تباہ ہو جاہیں؟‘ جواب میں ستر فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ایسا چاہتے ہیں جبکہ تیس فیصد لوگوں کا کہنا تھا وہ ایسا نہیں چاہتے۔
ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ کیا آپ یہ چاہیں گے کہ غیر ملکیوں اور اُن مقامی افراد کے خلاف پاکستانی فوج ٹارگٹڈ آپریشن کرے جو پاکستان کی ریاست سے لڑ رہے ہیں اور سماج کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟ اِس سوال کے جواب میں پچاسی فیصد لوگوں نے ’ہاں‘ کہاں اور پندرہ فیصد نے ’نہیں‘۔
آریانہ انسٹیٹوٹ آف ریجنل ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اس ’سروے کا عمومی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، اُن کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں۔ وہ ضرور یہ چاہتے تھے کہ اگر ایسا پاکستانی فوج کرے تو وہ زیادہ خوش ہوں گے۔ لیکن وہ ڈرون حملوں کے بارے میں کوئی ایسا احساس نہیں رکھتے جسے نفرت یا ناپسندیدگی سے تعبیر کیا جا سکے۔‘
جن علاقوں میں یہ سروے کیا گیا ان میں جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی شامل تھے۔ اس سروے میں جو طریقۂ کار اختیار کیا گیا اس میں مختلف تحقیق کاروں کے گروپ بنائے گئے۔ تحقیق کاروں کا تعلق انہیں علاقوں سے تھا۔ ان تحقیق کاروں کو سوال نامے دیے گئے تھے۔ یہ لوگ ان علاقوں میں گئے اور ان سوالوں کو دیکھ کر ایک ’ایکسپلوریٹری میتھڈ‘ اختیار کیا جو یہ تھا کہ سروے کے سوالوں کی بنیاد پر معروضی انداز سے فیلڈ ورک کیا جائے۔
اس فیلڈ ورک کے لیے جو سامپلنگ کی گئی اس میں چھوٹے تاجروں، طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں، ہسپتالوں میں کام کرنے والوں، استاتذہ اور ٹرانسپورٹرز کو شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر خادم حسین کے مطابق اس میتھڈالوجی کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ سروے کے نتائج کی شرح فیصد نکالی گئی جس کے ذریعے غلطیوں کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا جو صفر عشاریہ پانچ فیصد نکلا۔ جس سے یہ نتیجہ اخز کیا گیا کہ یہ سروے سائنسی اصولوں کے معیار پر پورا اترتا تھا۔
میڈیا کا محدود دائرہ
ناروے کی اوسلو یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کار فرحت تاج جن کا تعلق بھی پاکستان کے صوبۂ پختونخوا سے ہے، کہتی ہیں کہ میڈیا میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر غلط ہے کہ ڈرون حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور کئی صحافیوں کو ان علاقوں میں صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے کسی حد تک آزادانہ صحافت کرنے کی کوشش کی۔
فرحت تاج کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شہروں میں عوامی مقامات پر خودکش حملے، ان میں عام شہریوں کی ہلاکت اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پاکستان کے میڈیا کے اندر طالبان کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ لیکن ڈرون حملوں کے بارے میں میڈیا کی سوچ میں ابھی تک تبدیلی نہیں آئی اور وہ پاکستان کے لوگوں کو ’اب بھی گمراہ کر رہا ہے‘۔
فرحت تاج کے مطابق اگر ان لوگوں سے بات کی جائے جو ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو وہ یہ بتائیں گے کہ ڈرون حملے اپنے نشانے پر لگتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کھل کر نہیں بتاتے۔ فرحت تاج کا کہنا ہے کہ یہ بات صرف وہی نہیں کہہ رہیں۔ ’گزشتہ برس پشاور میں ایک بڑا جرگہ ہوا تھا جس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور ادیبوں سمیت ایک ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی تھی اس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حکمت عملی میں اگر کسی چیز سے مطمین ہیں تو وہ ڈرون حملے ہیں۔
فرحت تاج کے مطابق بین الاقوامی میڈیا بھی تصویر کا صحیح رخ نہیں پیش کر رہا ہے کیونکہ اس کو بھی قبائلی علاقوں تک رسائی نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں پر ہی انحصار کرتا ہے اور اس کے علاوہ بھی جن ذرائع کی مدد لیتا ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہی صورت حال مغربی تھنک ٹینکس (فکری اداروں) کی بھی ہے جو پاکستانی صحافیوں کی نیوز رپورٹوں کی مدد سے اپنی رپورٹیں بناتے ہیں، نتائج اخز کرتے ہیں اور مغرب میں بھی لوگوں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ نتیجاً قبائلی علاقوں کے بارے میں ایک مجموعی رائے یہی بنی ہے کہ وہاں لوگ طالبان اور القاعدہ کی محبت میں گرفتار ہیں اور ڈرون حملوں میں عام لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں طالبان کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، جو کہ ایک بلکل غلط تاثر ہے