دوسرا یہ کہ اس آیت میں تو کھانے پینے والی اشیا کا ذکر ہے ۔ سو اس آیت سے یہ ثابت کرنا ہے موسیقی حلال ہے یہ کافی عجیب منطق ہو گی ۔ ظفری صاحب نے نجانے اس آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ " اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے"
۔۔۔۔ بقول ظفری ۔۔۔
موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو مان لیتا ہوں لیکن کیا آپ کو علم نہیں دوسرے بہت سے ایسے گناہ ہیں جن کا قران میں نہیں ذکر تو کیا وہ سب جایز قرار دیئے جائیں ؟
بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ذکر قران میں نہیں ہے بلکہ احادیث میں ہے۔ اسلیے آپ کی یہ لاجک کسی حساب سے درست نہیں بنتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقول ظفری ۔۔۔۔۔۔
۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب آپ نے کبھی امام بخاری اور امام مسلم کے احادیث لکھنے کے قانون پڑھے ہیں ؟
میں مختصرا بتاتا چلوں کہ عالم اسلام تمام فرقوں کی متفقہ رائے ہے کہ سب سے اہم اور صحیح حدیث وہ ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں ہو ۔
اس کے بعد وہ جو صحیح بخاری میں ہے مگر صحیح مسلم میں نہیں
اس کے بعد وہ جو صحیح مسلم میں ہے مگر صحیح بخاری میں نہیں
ایسی حدیث جس میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے درمیان ٹکراو ہو اس میں صحیح بخاری کی حدیث کو احسن اور صحیح مسلم کی حدیث کو شاز کہا جاتا ہے ۔
اور یہ بات بھی نوٹ فرما لیں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کوئی حدیث ضعیف نہیں ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں مشہور بھی اسی وجہ سے ہیں کیوں کہ ان میں ایسی احادیث شامل ہی نہیں کی گئیں جو صعیف تھیں یا جن پر شک تھا کہ ضعیف ہیں ۔ مزید تفصیل کیلیے صحیح بخاری کا دیباچہ پڑھ لیں ۔
حدیث از صحیح بخاری
(5) Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection." (Book #69, Hadith #494v)
حوالہ
http://www.searchtruth.com/book_display ... =494v#494vاس حدیث میں جن چیزوں کا ذکر ہوا ہے سب ممنوع ہیں لہذا نبی پاک ؐ کا یہ کہنا کہ میری امت کے کچھ لوگ لوگ زنا ، شراب ، ریشمی کپڑوں کو اور موسیقی کو حلال کر دیں گے ، سے ثابت ہوتا ہے موسیقی بھی ابتدائی طور پر حرام ہے۔ اب اس کو کچھ لوگ حلال قرار دینے کی کوشش کرر ہے ہیں جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان ہے۔
حدیث از صحیح مسلم ۔۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The bell is the musical instrument of the Satan. (Book #024, Hadith #5279)
حوالہ
http://www.searchtruth.com/book_display ... =5279#5279یہ تو بالکل واضح بات ہے اس میں کسی مباحثے کی ضرورت ہی نہیں
تو حضرت ان دو صحیح احادیث کی موجودگی میں آپ نے کیسے کہہ دیا کہ "اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔ "
پھر آپ نے منطق اپنائی کہ میوزک اسلیے حلال ہے کہ اس کو حرام کہیں نہیں کیا گیا ۔
یہ تو اوپر کی دو احادیث جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے لی گئی ہیں ان سے ثابت ہو گیا کہ آپ کی یہ بات غلط ہے کہ ضعیف احادیث موسیقی کو حرام قرار دیتی ہیں۔
پھر آپ نے کہا احادیث موسیقی کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن جناب آپ نے کوئی ایسی حدیث نہیں بیان کی اس کے دلیل میں ۔ ایسی کوئی حدیث بیان کریں جس میں واضح طور پر موسیقی کو حلال قرار دیا گیا ہو