شمولیت اختیار کریں۔    لاگ ان    فورم    تلاش    عمومی سوالات  بلاگ بلاگ   

پورٹل » مرکزی صفحہ » مذاہب » اسلام


فورم کے قوانین


مذہب کے میں تفرقہ پرستی یا منافرت پھیلانا منع ہے



نئے موضوع کی ترسیل Reply to topic  [ 19 posts ]  صفحہ پر جایئے 1, 2  اگلا
مصنف پیغام
 مراسلہ کا عنوان: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 4:09 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
موسیقی اسلام میں‌ کیا مقام رکھتی ہے .

کچھ لوگ کہتے ہیں یہ جائز و حلال ہے اور کچھ اس سے سخت خلاف ہیں . دونوں کے پاس اپنے اپنے دلایل ہیں اور دونوں ہی دوسرے کو انتہا پسند سمجھتے ہیں . کسی کے پاس عقلی دلایل ہیں تو کسی کے پاس مذہبی ، کسی کو کوئی حدیث صحیح لگتی ہے کسی کو وہی حدیث ضعیف لگتی ہے. کوئی حدیث کا کچھ مطلب نکالتا ہے کوئی کچھ ، سچ تو یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا مطلب نکال کر اپنی بات کو سچ منوانے کی کوشش کرتا ہے ، اس بات سے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ حدیث جس کا ذکر کیا جا رہا ہے اس وقت حالات کیا تھے ، کیا واقعہ پیش آیا تھا جب وہ بات کہی گئی وغیرہ
اسی طرح کے مسائل آیات کے حوالہ سے بھی درپیش ہیں‌ . قران کی آیات کا لفظی ترجمہ تو ایک ہی ہے سب مانتے ہیں لیکن بہ محاورہ ترجمہ میں‌ اختلافات نظر آتے ہیں‌. کوئی کسی آیت کا کچھ مطلب لیتا ہے کوئی کچھ .
میرے ایک دوست نے کچھ عرصہ قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں انہوں نے دلایل کے ساتھ موسیقی کو حلال قرار دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا اسلام میں اس کو پسند کیا گیا ہے لیکن یاد رہے ان صاحب نے جو دلایل دیئے وہ سب عقلی دلایل تھے . ان میں دو آیات تھیں جن کے نمبر غلط لکھے ہوئے تھے . اور ترجمہ لفظی نہیں بلکہ بحاورہ تھا . میں نے تین تراجم الگ الگ چیک کیے مجھے وہ والا بہ محاورہ ترجمہ نہیں ملا اس کے علاوہ ان میں کچھ احادیث کا ذکر تھا لیکن ان کے حوالہ جات نہیں تھے ،
اگرچہ تب بھی میں نے اعتراض کیا تھا لیکن اسی وقت کوئی جامع مضمون یا جواب نہیں لکھ سکا جس کا مطلب محترم نے یہ سمجھا کہ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں‌ ہے اور انہوں نے سب کو لاجواب کر دیا. چند دن قبل اردو محفل پر باتوں میں اسی بات کا ذکر نکلا تو محترم نے فورا اپنی جان بچانے کیلیے الٹا مجھ کر الزامات شروع کر دیے
1 . میں نے خود بہت سے گانے اپ لوڈ کیے ہیں
2 . میرا عقلی اور مذہبی اور شعوری سٹیٹس ان سے کم تر ہے
3 . میں نے اپنی نیم برہنہ تصویر مسنجر پر لگائی


یہ تینوں الزامات بغیر کسی لاجک کا دلیل کے لگائے گئے ان کا مقصد شر پسندی پھیلانا اور اصل بات کو گول کر کے رفو چکر ہونا تھا . چونکہ یہ تینوں بونگے الزامات میری ذات پر لگائے گئے تھے اسلیے میں ان کے جوابات دینے کے چکر میں پڑتا صرف اصل موضوع پر رہتا ہوں‌تاکہ جناب ظفری صاحب کے موسیقی حلال کرنے کے موقف کو جان سکیں اور اس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں

بحوالہ . http://www.urduweb.org/mehfil/showthrea ... 252&page=3
نیچے ظفری کا وہ مضمون ہے جو انہوں نے میوزک کے حوالے سے دیکھا تھا . یہ جوں کا توں کاپی کیا گیا ہے

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


Last edited by اظفر on جمعرات جولائی 01, 2010 6:54 pm, edited 1 time in total.
.


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 4:22 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
یہ ظفری کا وہ مضمون ہے جو انہوں نے موسیقی کے بارے میں لکھا تھا
صفحہ ایک

اسلام اور موسیقی
3 December 2007 بوقت 8:49am |
مسلمان معاشرے ان دنوں Transformation کے ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ عالم ِ اسلام میں ہر طرف روایت اور جدت کی ایک کشمکش ہے ۔ یہ کشمکش کسی قوم کے مستقبل کے لیئے بڑی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ علامہ اقبال نے اس طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
آئینہِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کوہن پہ اَڑنا
منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں
کشمکش کے یہ میدان بہت سے ہیں ۔ لیکن اس میں سب سے واضع اور نمایاں میدان فنونِ لطیفہ کا ہے ۔ اور اس میں بھی نمایاں تر موسیقی کی بحث ہے ۔ ایک مسلمان معاشرے میں کیا موسیقی کے لیے گنجائش موجود ہے ۔ ؟ اسلام جس تہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔ کیا اس میں موسیقی کے لیے کوئی جگہ ہے ۔ جو تزکیہ انسان کو مذہب میں مطلوب ہے کیا موسیقی اس میں معاون ہے یا اس کا کردار منفی ہے ۔ ؟یہ سوالات موجودہ دور کے ہر مسلم معاشرے کے افراد کے ذہن میں پائے جاتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ قرآن و سنت سے ہم کو کیا اور کہاں تک رہنمائی ملتی ہے کہ موسیقی کے حلال اور حرام ہونے کے صحیح جواز کو سمجھا جا سکے اور دلائل اور استدلال کیا کہتے ہیں کہ موسیقی کہاں تک جائز ہے یا پھر صریحاً حرام ہے ۔
جو چیز انسان کو شرک اور بے حیائی کی طرف مائل کردے یا کوئی ایسی چیز جو انسان کو اس کی بنیادی ذمہ داریوں ، عبادات اور ضروریات سے غافل کردے ۔ ایسی صورت میں جو جائز چیز ہوگی وہ بھی اس وقت ناجائز ہوجائے گی ۔ اور اسکا تعلق صرف موسیقی سے ہی نہیں بلکہ وہ کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صرف سیر وتفریح ہی کرنے لگے یا کوئی شخص اس طرح شاعری کرنے لگے کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہوجائے ۔ تو یہ چیزیں بھی ناجائز بن جائیں گی ۔ اگر بات موسیقی کی ہے تو پوری کائنات میں موسیقیت کے مظاہر ہر جگہ ملیں گے ۔ پانی کے جھرنوں کا گنگنانا ، پرندوں کا مخصوص انداز میں چہچہانا ، ہوا کی سرسراہٹ ۔ سب فطرت کی موسیقی کے ہی مظاہر ہیں ۔ اور قرآن نے جس طریقے سے کہہ دیا ہے ۔
کہ ۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید کو سامنے رکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے ۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔
ایک حدیث کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ” مجھے آلاتِ موسیقی کو توڑنے کے لیئے بھیجا گیا ہے ” اور جب اس کی تفصیل میں جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک انتہائی ضعیف حدیث ہے ۔ یعنی اس بات کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ثابت کرنا ایک بہت

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: صفحہ نمبر دو از ظفری
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 4:30 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
صفحہ نمبر دو ..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ لہذا ایسی احادیث پر کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ۔

سو سال پہلے علامہ اقبال نے اپنے لیکچر Reconstruction Religoin Theory Of ISLAM میں کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے ۔ ” اب ایک دائرے کا سفر شروع ہوگیا ہے ۔ اگر اس پر کسی قسم کے خیالات یا نظریات کا اظہار کیا جائے تو وہ فتوؤں کی گرفت میں آجاتا ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔

کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔

واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔ اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔ ” چنانچہ جتنی بھی دو چار حدیثیں جو موسیقی کے خلاف پیش کی جاتیں ہیں ۔ اور محدثین نے ان پر جس طرح کے اعتراضات کیئے ہیں اور بتایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک روایت میں ایسی چیزیں ہیں جو ان کو کمزور بنا دیتیں ہیں اور جن بنیاد پر یہ کہنا کہ موسیقی حرام ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے ۔ البتہ اس کی بنیاد پر ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جو انسان جو بےحیائی کی طرف راغب کر ے اور ذمہ داریوں اور عبادات سے دور لے جائے ان میں موسیقی ” بھی ” ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں موسیقی کی بھی ممانیت ہوجائیگی ۔

اگر حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہے اور ہم کوشش کر کے اس کو جائز ثابت کریں دین میں یہ کوئی مثبت رویہ نہیں ہے ۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہو اس کو کوئی بھی مسلمان حلال قرار دے نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہے کہ اگر ہمارے درمیان کوئی علمی اختلاف ہو رہا ہو اور اٹھ کر کوئی یہ کہہ دے کہ تم اپنی خواہشِ نفس کی بنیاد پر یہ بات یہ کہہ رہے ہو تو یہ بھی ایک ناپسندیدہ رویہ ہوگا جتنا کہ پہلے والا ہے ۔ لیکن اگر کوئی موسیقی کو سننا چاہتا ہے تو میں اس کے جواز کو مانا جاسکتا ہے ۔ اب یہ جواز کو ماننے والی بات کیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں جو حلال و حرام اور گناہ کبیرہ کی نوعیت کی ہیں ۔ یا فرض کی نوعیت کی ہیں

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 4:48 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
صفحہ نمبر 3
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ

” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ساتھ اللہ موسیقی کو نہ ملائے ۔ اس کے بعد جب ہم روایت کی بنیاد پر آتے ہیں تو کسی روایت کے ذریعے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی بات ہمیں پہنچی ہوئی ہوتی کہ اے مسلمانو! موسیقی تم پر مکمل طور پر حرام ہے ۔ اس کے آلات تم پر حرام ہیں ۔ اس کا سننا تم پر حرام ہے تو مسلمان اس کے سامنے اپنا سرخم تسلیم کر لیتے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بات موجود ہی نہیں ہے ۔ مہیز مختلف ذرائع سے سے بالواسطہ یہ بات لائی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

بہت ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جو سنداً ثابت ہوجاتیں ہیں ۔ لیکن محدثین ان پر تنقید درایت کے اصولوں پر کرتے ہیں ۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر ، گھوڑے اور عورت میں نحوست ہوتی ہے ۔ ” یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تک پہنچی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ” ابوہریرہ نے ہمیں تو گھر اور گھوڑے کے ساتھ ملا دیا ۔ ” حقیقت یہ نہیں تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا ۔ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا تھا کہ ” زمانہ جاہلیت میں لوگ ان چیزوں کے درمیان نحوست محسوس کرتے تھے ۔ ” چناچہ درایت کے اصولوں کے مطابق بےشمار روایتوں پر نقد و جرح ہوچکی ہے اور یہ بات کہی جاچکی ہے کہ یہ چیز اس طرح عقل و فطرت اور قرآن مجید کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور اس بنیاد پر ایسی روایات ماننے کے قابل نہیں ہوتیں ۔ جب ان تمام چیزوں کو اس طرح یکجا کیا جاتا ہے ۔

اس سلسلے میں دو کتابیں قابلِ ذکر ہیں ۔
ایک ” اسلام اور موسیقی ” جو مولانا جعفر شاہ پھلواری نے لکھی ہے۔
دوسری کتاب جس کا نام بھی ” اسلام اور موسیقی ” ہے ۔ اس کو جناب مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے ۔
اگر ان دو کتابوں کو پڑھ لیا جائے اور پھر اپنے اندر کے مفتی سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر بتا دیتا ہے کہ کونسی روایت غلط ہے اور کونسا اس کا طریقہ کمزور ہے
----------------------------------------------------------

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: جواب
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 4:52 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
سب سے پہلے تو میں یہ واضح کر دوں کہ ظفری صاحب نے یہ آیت بیان کی ہے

۔۔۔۔۔ بقول ظفری ۔۔۔۔
” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ( سورہ مائدہ ۔ آیت نمبر 90 )
ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مومنین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ آیت نہ تو سورة المایدہ کی ہے اور نہ ہی کسی بھی سورت کی آیت نمبر 90 ہے ۔

سورة المایدہ کی آیت نمبر 90
90
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ

حوالہ ۔
http://www.quranweb.org/urdu
http://www.searchtruth.com/chapter_disp ... w_arabic=1

لہذا ان کی بات تو شروع میں ہی غلط ہو گئی ۔
اوپر جو آیت موصوف نے بیان کی تھی وہ سورة عراف کی آیت نمبر 32 ہے۔

32 قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَ‌ٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
Say, "Who has prohibited Allah's decorations and the wholesome provisions which He has brought forth for His worshippers?" Say, "These are for the believers in the life of this world, and exclusively for them,12 on the Resurrection Day." Thus do We make the Verses/signs clear for people who know.
کہہ دو الله کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندو ں کے واسطے پیدا کی ہے اورکس نے کھانے کی ستھری چیزیں (حرام کیں) کہہ دو دنیا کی زندگی میں یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے لیے ہیں قیامت کے دن خالص انہیں کے لیے ہوجائیں گی اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 5:11 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
دوسرا یہ کہ اس آیت میں تو کھانے پینے والی اشیا کا ذکر ہے ۔ سو اس آیت سے یہ ثابت کرنا ہے موسیقی حلال ہے یہ کافی عجیب منطق ہو گی ۔ ظفری صاحب نے نجانے اس آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ " اس کا مطلب یہ ہوا کہ موسیقی بنیادی طور سے جائز ہے بشرطیکہ اس میں شرک اور بے حیائی نہ ہو ۔ اور وہ انسان کو اس کی اہم زندگی کی ضروریات سے غافل نہ کردے"

۔۔۔۔ بقول ظفری ۔۔۔
موسیقی کو حرام قرار دینے کے لیئے قرآن مجید میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو مان لیتا ہوں لیکن کیا آپ کو علم نہیں دوسرے بہت سے ایسے گناہ ہیں جن کا قران میں نہیں ذکر تو کیا وہ سب جایز قرار دیئے جائیں ؟
بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ذکر قران میں نہیں ہے بلکہ احادیث میں ہے۔ اسلیے آپ کی یہ لاجک کسی حساب سے درست نہیں بنتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقول ظفری ۔۔۔۔۔۔
۔ اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب آپ نے کبھی امام بخاری اور امام مسلم کے احادیث لکھنے کے قانون پڑھے ہیں ؟
میں مختصرا بتاتا چلوں کہ عالم اسلام تمام فرقوں کی متفقہ رائے ہے کہ سب سے اہم اور صحیح حدیث وہ ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں ہو ۔
اس کے بعد وہ جو صحیح بخاری میں ہے مگر صحیح مسلم میں نہیں
اس کے بعد وہ جو صحیح مسلم میں ہے مگر صحیح بخاری میں نہیں

ایسی حدیث جس میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے درمیان ٹکراو ہو اس میں صحیح بخاری کی حدیث کو احسن اور صحیح مسلم کی حدیث کو شاز کہا جاتا ہے ۔
اور یہ بات بھی نوٹ فرما لیں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کوئی حدیث ضعیف نہیں ہے۔ اور یہ دونوں کتابیں مشہور بھی اسی وجہ سے ہیں کیوں کہ ان میں ایسی احادیث شامل ہی نہیں کی گئیں جو صعیف تھیں یا جن پر شک تھا کہ ضعیف ہیں ۔ مزید تفصیل کیلیے صحیح بخاری کا دیباچہ پڑھ لیں ۔

حدیث از صحیح بخاری

(5) Narrated Abu 'Amir or Abu Malik Al-Ash'ari: that he heard the Prophet saying, "From among my followers there will be some people who will consider illegal sexual intercourse, the wearing of silk, the drinking of alcoholic drinks and the use of musical instruments, as lawful. And there will be some people who will stay near the side of a mountain and in the evening their shepherd will come to them with their sheep and ask them for something, but they will say to him, 'Return to us tomorrow.' Allah will destroy them during the night and will let the mountain fall on them, and He will transform the rest of them into monkeys and pigs and they will remain so till the Day of Resurrection." (Book #69, Hadith #494v)

حوالہ
http://www.searchtruth.com/book_display ... =494v#494v

اس حدیث میں جن چیزوں کا ذکر ہوا ہے سب ممنوع ہیں لہذا نبی پاک ؐ کا یہ کہنا کہ میری امت کے کچھ لوگ لوگ زنا ، شراب ، ریشمی کپڑوں کو اور موسیقی کو حلال کر دیں گے ، سے ثابت ہوتا ہے موسیقی بھی ابتدائی طور پر حرام ہے۔ اب اس کو کچھ لوگ حلال قرار دینے کی کوشش کرر ہے ہیں جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان ہے۔

حدیث از صحیح مسلم ۔۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The bell is the musical instrument of the Satan. (Book #024, Hadith #5279)
حوالہ
http://www.searchtruth.com/book_display ... =5279#5279
یہ تو بالکل واضح بات ہے اس میں کسی مباحثے کی ضرورت ہی نہیں


تو حضرت ان دو صحیح احادیث کی موجودگی میں آپ نے کیسے کہہ دیا کہ "اور جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو جتنی بھی صحیح احادیث ہیں ۔ وہ موسیقی کی حلت پر یعنی اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتیں ہیں ۔ اور جتنی بھی ضعیف احادیث ہیں وہ اس کو حرام قرار دیتیں ہیں ۔ "

پھر آپ نے منطق اپنائی کہ میوزک اسلیے حلال ہے کہ اس کو حرام کہیں نہیں کیا گیا ۔
یہ تو اوپر کی دو احادیث جو کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے لی گئی ہیں ان سے ثابت ہو گیا کہ آپ کی یہ بات غلط ہے کہ ضعیف احادیث موسیقی کو حرام قرار دیتی ہیں۔
پھر آپ نے کہا احادیث موسیقی کے حلال ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں لیکن جناب آپ نے کوئی ایسی حدیث نہیں بیان کی اس کے دلیل میں ۔ ایسی کوئی حدیث بیان کریں جس میں واضح طور پر موسیقی کو حلال قرار دیا گیا ہو

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 11:45 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
۔۔۔۔۔۔۔بقول ظفری ۔۔۔۔۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ موسیقی کے اکثر آلات مسلمانوں کی ہی ایجاد کردہ ہیں ۔ گٹار اسپین کے مسلمانوں نے ایجاد کیا ۔ طبلہ اور ستار امیر خسرو کی ایجاد ہیں ۔ ۔ مسلمان معاشرے میں جو بھی ترقی ہوئیں وہ پندرھویں یا سولویں صدی سے قبل کی ہیں کہ اس وقت مسلمان سوچ رہا تھا ۔ اور مسلمانوں نے اس قسم کی جو بھی ایجادات کیں وہ محض تفریح کے لیئے نہیں بلکہ ایک تخلیقی کام کو آگے بڑھانے اور زندہ رکھنے کے لیئے تھیں ۔ کیونکہ تفیہمِ نو کا سفر جاری تھا ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا اس کا یہ مطلب لے لیں کہ موسیقی حلال ہے ؟ یہ صرف آپ کی سوچ ہو سکتی ہے ۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا مسلمان سایسندانوں نے انسان کو فانی بنانے کیلیے بھی کوششیش کی جو کہ ناکام رہیں ۔ ان کا ذکر شاید پاکستان میں ساینس کی 7 ۔ 8 کلاس کی کتاب میں بھی ہے ۔ (جب ہم نے پڑھا تھا تب تو ضرور تھا)۔ تو کیا اب یہ بھی کہہ دیا جائے کہ ہمارے ساینسدانوں کے ان تجربات کی بدولت ہم یہ کہہ دیں کہ ہم نے مرنا ہی نہیں ہے ؟
جب کہ قران کہتا ہے ہر کسی کو موت کا ذایقہ چھکنا ہے ۔ لہذا یہ دلیل دینا کہ موسیقی کے آلات مسلمانوں نے ایجاد کئے یہ کسی صورت درست دلیل نہیں ۔


۔۔۔۔۔بقول ظفری۔۔۔۔۔۔۔
کسی بھی چیز کو ناجائز قرار دینے کے لیئے ایک مضبوط دلیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کو آپ محض کمزور احادیث پر حرام قرار نہیں دے سکتے ۔ جب ہم موسیقی کے حوالے سے تمام روایات کو اکٹھا کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بخاری اور مسلم میں جو احادیث ہیں ۔ وہ اس طرف اشارہ کرتیں ہیں کہ بغیر کسی استثناء کے وہ تمام چیزیں جن میں شرک اور بےحیائی نہ ہو تو ان میں کوئی ناجائز ہونے کی بات نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب آپ نے ذکر تو کر دیا لیکن ایسی احادیث تو بیان نہیں کیں جو آپ کا مقصد پورا کرتی ہوں ۔ جبکہ میں اوپر انہی دو کتابوں سے ایک ایک حدیث کاپی کر چکا ہوں بمعہ حوالہ جات ۔

۔۔۔۔۔۔بقول ظفری۔۔۔۔۔۔۔۔
واحد صحیح حدیث جس میں موسیقی کا تذکرہ ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” جن چیزوں کی قیامت کے دن اکثریت ہوجائے گی ۔ ان میں سے ایک چیز موسیقی بھی ہے ۔ ”
یہ حدیث بلکل ٹھیک ہے ۔ لیکن اس حدیث میں خبر دی گئی ہے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں لوگ ان چیزوں میں اس طرح منہمک ہوجائیں گے کہ وہ نہ صرف اپنی عبادات بلکہ اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو بھی بھلا دیں گے ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو جناب جو حدیث آپ نے درست مان ہی لی اس کا مطلب اپنی مرضی کا نکال لیا ۔ چلیں یہ بتا دیں لوگ باقی حلال کاموں میں متوجہ ہو کر عبادات سے غافل کیوں نہیں ہونگے صرف موسیقی ہی کیوں ؟
یقینا یہ ایک غلط مطلب ہے جو آپ نے حدیث سے اخذ کر لیا ہے۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔بقول ظفری ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بانسری کی بات ہے تو ایک صحیح روایت میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سائبان کو بانسری بجاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ” یہ سفر کی کلفت دور کرنے کا کتنا اچھا طریقہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی کہی بات حدیث کب مانی جاتی ہے ؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی کہی بات حدیث صرف تب مانی جاتی ہے کہ یہ بات حضرت محمد ؐ کو علم ہوئی ہو اور آپ ؐ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو ۔ (یہ حدیث کی ایک قسم ہے کہ کوئی کام حضرت محمدؐ کے سامنے یا ان کے علم میں ہوا ہو اور آپ ؐ نے منع نہ فرمایا ہو۔ )
جو جناب آپ اس حدیث کو مکمل لکھیں بمعہ حوالہ جات تاکہ میں بھی جان سکوں یہ کون سی روایت ہے۔

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 11:52 am 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
۔۔۔۔۔۔بقول ظفری۔۔۔۔۔۔۔
۔ تو اس کا ذکر لازماً قرآن میں ہوا ہے ۔ کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہو کہ


” یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ ( سورہ اعراف ۔ آیت نمبر ( 32)

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آیت بھی غلط حوالہ کے ساتھ لکھی گئی ہے ۔ اب یہ آیت سورة المایدہ کی آیت نمبر 90 ہے ۔ اس کی تفصیل دیکھنے کیلیے اس کے آگے پیچھے ہی چند آیات دیکھنی پڑتی ہیں ۔

اس سلسلہ میں موسیقی کو جائز سمجھنے والے حضرات اور ان کی دلیل کا قران و سنت کی رو سے جائزہ لیتے ہیں۔

سورة المائدة کی آیت نمبر 87 میں ارشاد ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

اے ایمان والو ان ستھری چیزوں کو حرام نہ کرو جو الله نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو بے شک الله حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا

O you who believe! do not forbid (yourselves) the good things which Allah has made lawful for you and do not exceed the limits; surely Allah does not love those who exceed the limits.

اس آیت کی تفسیر دیکھتے ہیں :

حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی محمدؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آکر کہا کہ یارسول اللہ ؐ ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے ، اسلیے میں نے گوشت کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے ، جس پر یہ آیت نازل ہوئی

{صحیح ترمذی ۔ للالبانی ،جلد 3 صفحہ 46}

یہ تو آیت کے نزول کا سبب ہے ۔ اس کے علاوہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ ؓ زہد و عبادت کی غرض سے حلال چیزوں سے (مثلا عورت سے نکاح کرنے ، رات کے وقت سونے ، دن کے وقت کھانے پینےسے) اجتناب کرنا چاہتے تھے ۔ نبی ؐ کے علم میں یہ بات آئی تو آپ ؐ نے انہیں منع فرمایا۔

اس آیت و احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی حلال کردہ کسی بھی چیز کو حرام کر لینا یا اس سے ویسے ہی پرہیز کرنا جائز و مناسب نہیں ہے چاہے اس کا تعلق ماکولات و مشروبات سے ہو یا لباس سے ہو یا غیر مرغوبات و جائز خواہشات سے۔

ایک اہم بات جو ضروری ہے کہ یہاں یہ کہا گیا جو چیزیں حلال کی گئی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام کرنا جائز و مناسب نہیں ۔

یہ آیت کھانے والی چیزوں کے متعلق ہے جیسا کہ اس کے نزول کا سبب اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔ ساتھ ہی اگلی آیت دیکھیں

88۔ وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ

اور اللہ کے رزق میں سے جو چیز حلال ستھری ہو کھاؤ اور الله سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو

کچھ لوگ اس آیت مبارکہ(آئت87) سے مطلب نکالتے ہیں کہ اس کے مطابق موسیقی حلال ہے کیوں کہ اگلی آیات مبارکہ میں ارشاد ہے :

90۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔

ان دو آیات یعنی 87 اور 90 کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں، پہلے اللہ نے کہا جو چیزیں حرام نہیں ان کو استعمال کرو یہ نعمت ہیں ساتھ ہی کہتے ہیں اگلی آیت میں جو چیزیں حرام ہیں ان سب کی وضاحت کردی ۔

یہ بات قطعی طور پر غیر مناسب اور غلط ہے کہ ان آیات کا یہ مطلب نکلتا ہے ۔ آیت 87 کو دھیان سے دیکھیں اس کے مطابق ان چیزوں کو حرام کرنا درست نہیں جن کو حلال قرار دیا گیا ہو ، موسیقی کو اسلام میں کہیں بھی حلال قرار ہی نہیں دیا گیا تو اس آیت کا اطلاق موسیقی پر کس طرح کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ یہ آیت تو کھانے پینے والی چیزوں کے متلعق ہے اور موسیقی کھائی نہیں جاتی ۔ تیسری بات یہ کہ یہاں چند غلط اور حرام چیزوں کا ذکر ہوا ہے جس میں شراب ، جوا ، بت اور فال کا ذکر ہے ، یہاں تو زنا کا ذکر بھی نہیں اسلیے اگر غلط طریقہ سے موسیقی کو حلال کرنے کی کوشش کی جاے تو اسی فارمولے میں تو زنا بھی جائز ہو جاے ۔ استغفراللہ

اللہ نے مختلف جگہ پر مختلف چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو براہ راست قران میں حلال و حرام نہیں کہا گیا بلکہ محمدؐ کے ذریعہ سے ان کو حرام یا حلال قرار دیا گیا ہے ۔ اسی طرح زنا ، موسیقی اور سود جیسے حرام کاموں کو منع گیا ہے ۔


مزید تفصیل کیلیے viewtopic.php?f=12&t=100
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوۓ کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 12:10 pm 
آف لاین
پاکستان
پاکستان
رکن کی نمائندہ تصویر

تاریخ شمولیت:: ہفتہ اپریل 18, 2009 4:13 pm
مراسلات: 3892
مكانیت: سرگودھا
ہاں جی راجہ صاحب . آپ وجہ پوچھ رہے تھے .
دیکھیں مذہب میں جو چیز حرام یا ممنوع ہے اس کو اپنانے کے دو ہی طریقے ہیں‌. یا تو اس کو غلط مانیں اور اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں معاف کر دے . یہ وہ عمل ہے ہم میں سے زیادہ تر کرتے ہیں . حالانکہ یہ بھی مناسب نہیں کہ ہم جانتے بوجھتے غط عمل کریں اور پھر توبہ کریں
دوسرا طریقہ یہ ہے ہم کو جو چیز اچھی لگتی ہے ہم اس کو عقلی دلائل سے اسلام میں جایز ثابت کریں‌. چاہے وہ جتنی بھی غلط ہو. یہ وہ طریقہ کار ہے جو عام پر منافقین اور منکران احادیث کا ہوتا ہے. یہی طریقہ کار جناب ظفری صاحب کا بھی ہے . ظفری کو آپ جانتے ہی ہیں .
اوپر میوزک کے بارے میں ان کے دلائل دیکھ لیں

کیا ہم ایسے شخص کے عقلی دلائل پر یقین کر سکتے ہیں جو اتنا لاپرواہ ہے کہ آیات کے نمبر اور نام بھی ٹھیک سے نہیں چیک کرتا
یا ہم ایسے شخص کی بات مان سکتے ہیں جو کہتا ہے کہ احادیث میں موسیقی کے حلال ہونے کا ذکر ہے ؛ مگر کوئی صحیح حدیث نہیں دیتا
سب سے بڑھ کر یہ ایسے دہریے کی بات کی کیا اہمیت ہو گی جو حدیث یا آیت لکھ کر اس کے سیاق و سباق اور شان نزول سے ہٹ کر اپنی مرضی کی تشریح پیش کرتا ہے .


ان حضرت کا دوسرا کارنامہ مضمون ویلنٹاین ڈے کو گھر والوں کے ساتھ مل کر منانے کا آیڈیا تھا. وہ مضمون بھی جلد ہی کاہی کر کے اس پر بات کریں گے .
-----------
اگرچہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ موسیقی سنتے ہیں ، جن میں ، میں یعنی اظفر بھی شامل ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں‌ ہے کہ ہم اب یہ کہہ دیں‌ کہ یہ جایز ہے . اپنی خواہشات کے مطابق مذہب کو ڈھالنے کا نام اسلام نہیں بلکہ اپنے آپ کو اپنے مذہب کے مطابق ڈھالنے کو ایمان کہتے ہیں . اللہ ہم سب کو سیدھی راہ پر چلائے اور ان نام نہاد عالموں سے بچائے. آمین

_________________
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگَس کو ہُما کیا لکھنا

عکس


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
 مراسلہ کا عنوان: Re: اسلام اور موسیقی
 مراسلہ ارسال شدہ: منگل دسمبر 29, 2009 3:01 pm 
آف لاین

تاریخ شمولیت:: منگل دسمبر 29, 2009 2:52 pm
مراسلات: 2
ان شاءاللہ کچھ فرصت ملتے ہی اس موضوع پر لکھوں گا.


واپس اوپر 
 کوائف نامہ ای میل  
 
سابقہ مراسلات کا مشاھدہ:  بہ ترتیب  
 
نئے موضوع کی ترسیل Reply to topic  [ 19 posts ]  صفحہ پر جایئے 1, 2  اگلا

پورٹل » مرکزی صفحہ » مذاہب » اسلام


کون متصل ھے

فورم پر موجود اراکین: کوئی مندرج اراکین لاگ ان نہیں ہیں اور 1 مہمان

 
 

 
آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں نئے موضوعات شروع کرنے کی
آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں جوابات ارسال کرنے کی
آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں موجود اپنے مراسلت کی ترمیم و تدوین کی
آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں اپنے مراسلات حذف کرنے کی
آپ کو اجازت نہیں ھے: اس فورم میں اپنے مراسلوں کے ساتھ فائلیں منسلک کرنے کی

تلاش برائے ــــ:
رجوع بہ:  
cron
اردو ترجمہ از: اظفر،